علی گڑھ:7/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجمل خاں طبیہ کالج کے تحفظی و سماجی طب شعبہ کے زیرِ اہتمام ”عالمی یومِ صحت“ کے موقعہ پر ڈپریشن پرمنعقدہ”قومی کانفرنس برائے افسردگی“سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی فیض آباد کی نریندر دیو یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر اختر حسیب نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق تقریباً5کروڑ60لاکھ ہندوستانی ڈپریشن کا شکار ہیں اور تناؤ، الزائمر اور ڈمینشیا جیسے دماغی امراض کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈپریشن کا مسلسل بڑھنا تشویش کا باعث ہے اور اس کو تناؤ سے پاک طرزِ حیات اور روحانی طریقوں کو زندگی میں اپناکر دور کیا جاسکتا ہے۔کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اے ایم یو کے شعبہئ نفسیات کے پروفیسر اکبر حسین نے کہا کہ آیور وید اور یونانی طریقہ میں انسانی صحت کے تعلق سے تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورِ حاضر میں ڈپریشن کا سبب، وائی پولر حالات جیسے دماغی امراض میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہونا ہے۔ پروفیسر حسین نے بتایا کہ مرکزی وزیر برائے صحت کے ذریعہ پارلیامنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کی آبادی کا ایک سے دو فیصد حصہ شیزوفینیا اور وائی پولر جیسے خطرناک دماغی امراض سے متاثر ہے اور پانچ فیصد حصہ2005کے آخر میں ڈپریشن اور تناؤ سے متاثر پایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپریشن دنیا بھر میں امراض میں اضافہ کر رہا ہے۔دینیات فیکلٹی کے ڈین پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے کہا کہ ہر مذہب میں تناؤ کو دور کرنے کے روحانی طریقے دئے گئے ہیں جن کو اپنا کر ڈپریشن کے مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔کانفرنس کے آرگنائزنگ سکریٹری اور تحفظی و سماجی طب شعبہ کے سربراہ پروفیسر ایس ایم صفدر اشرف نے کہا کہ ڈپریشن ایک عام دماغی مرض ہے جس کی پہچان اداسی، عدم دلچسپی، احساس کمتری، نیند و بھوک میں کمی، تھکان اور دماغ کا ایک نکتہ پر مرکوز نہ رہنا وغیرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈپریشن طویل مدت تک مسلسل بھی چل سکتا ہے اور دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ جس میں ایک انسان کے کام کرنے کی صلاحیت اور روز مرہ کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ پروفیسر اشرف نے کہا کہ ڈپریشن خود کشی کا بھی سبب بن سکتا ہے۔پروگرام کی صدارت سی سی آر یو ایم نئی دہلی کے سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر ایم خالد صدیقی نے کی۔ پروگرام سے یونانی میڈیسن فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ایم ایم وامق امین اور اے کے طبیہ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سعود علی خاں نے بھی خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عبدالعزیز خاں نے انجام دئے اور ڈاکٹر عمار ابن انور نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔